اسلام آباد (عامر خان) : کبھی سوچا ہے؟ایک کاغذ کا ٹکڑا ایک ووٹ یہی وہ چیز ہے جو تخت بھی بدل سکتی ہے اور تقدیر بھی۔لیکن افسوس!ہم میں سے اکثر لوگ اس طاقت کی اصل قدر نہیں جانتے۔ہم گھنٹوں سوشل میڈیا پر بحث کرتے ہیں لیکن ووٹ کے دن گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ہم حکومت پر تنقید تو کرتے ہیں، مگر ووٹ دینے نہیں نکلتے۔پھر سوال یہ ہے اگر ہم خود خاموش ہیں،تو تبدیلی کی امید کس سے رکھتے ہیں؟ووٹ صرف ایک حق نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔یہ وہ طاقت ہے جو ایک عام شہری کو ملک کے فیصلے میں شریک بناتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب عوام حاکم بنتی ہے،اور حکمران جواب دہ۔لیکن بدقسمتی سے، ہمارے ملک میں ووٹ اکثر جذبات، لالچ یا خوف کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔کبھی برادری کے نام پر،کبھی پارٹی کے جھنڈے پر،کبھی کسی وعدے کے سحر میں آ کر۔ہم نے شاید ہی کبھی یہ سوچا ہو کہ:"کیا یہ شخص، یہ پارٹی، واقعی ملک کے لیے بہتر ہے؟"یہی وہ سوچ ہے جو ووٹ کی طاقت کو کمزور کرتی ہے۔جب ووٹ سوچے بغیر دیا جائے،تو پھر فیصلہ بھی قوم کے حق میں نہیں ہوتا۔لیکن امید اب بھی زندہ ہے۔ہر نوجوان، ہر باشعور شہری اگر وہ ووٹ سوچ سمجھ کر دے،تو پورا نظام بدل سکتا ہے۔تاریخ گواہ ہے،قومیں جب جاگتی ہیں تو تخت الٹ دیتی ہیں۔ووٹ وہ ہتھیار ہے جو بغیر گولی چلائے انقلاب لا سکتا ہے۔لیکن یاد رکھو اگر ہم نے ووٹ نہیں دیا،تو ہم نے اپنی آواز خود خاموش کر دی۔اور جب عوام خاموش ہو جائے،تو پھر شور صرف طاقتوروں کا سنائی دیتا ہے۔لہٰذا اگلی بار جب ووٹ کا دن آئے،تو یہ نہ سوچو کہ ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا بلکہ یہ سوچو کہ ہر ووٹ ایک امید ہے، ایک فیصلہ ہے، ایک ذمہ داری ہے۔ووٹ دو سوچ کر، سمجھ کر،کیونکہ تمہارا ووٹ ہی تمہارا مستقبل ہے
